De oorlog in de Amsterdamse onderwereld
- 255 pages
- 9 hours of reading
اردو کی نثری اصناف میں افسانے کی اہمیت نمایاں ہے۔ افسانے کا آغاز کہانیوں سے ہوا، جو ہر دور میں لکھی، سنی اور سنائی گئی ہیں۔ کہانی کی تاریخ انسان کی تاریخ کے برابر ہے، کیونکہ انسانی فطرت کہانی سننے اور سنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ قدیم دور میں جب زندگی کی مشکلات کم تھیں، کہانی سننا اور سنانا سماج کا حصہ بن گیا۔ چوپالوں، حجروں، اور گھروں میں قصہ خواں کہانیاں سناتے تھے، جو انسانی زندگی کی عکاسی کرتی تھیں یا سننے والوں کو خیالی دنیا میں لے جاتی تھیں۔ آج بھی، مصروفیات کے باوجود، انسان چند لمحے فلم یا ٹی وی ڈرامے دیکھ کر اپنی تفریح کرتا ہے۔ مختلف اوقات میں کہانی کی تعریف مختلف ماہرین نے کی ہے۔ محمد افضل رضا اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ابتدائی انسان نے اپنے تجربات کو الفاظ کی بجائے اشاروں سے بیان کیا، جس سے کہانی کا آغاز ہوا۔ اس طرح کہانی انسانی تجربات اور مشاہدات کا ایک اہم ذریعہ بنی، جو آج بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔




